صفحۂ اولشعرازمرہ جاتلغاتمزید مطالعہہمارے بارے میںرابطہ
زندہ رود
زندہ رود

زندہ رود: فارسی شاعری کا ایک جاوداں دریا

زندہ رود فارسی شاعری کو اردو اور انگریزی تراجم، آڈیو اور ویڈیو کے ساتھ ایک پرسکون اور مستقل مطالعہ گاہ میں پیش کرنے کی کوشش ہے۔

مزید جانیں ←
YouTubeFacebookInstagramTikTok

مرکزی راستے

صفحۂ اولشعراتلاشہمارے بارے میںرابطہ

مزید مطالعہ

اوزاناصنافصداکارانمترجمینزندہ رود اور گنجور

لغات

لغاتزندہ رود فارسی لغتزندہ رود عربی لغت

ہر ماہ نئی نظمیں · جاری منصوبہ

© 2026 زندہ رود

  1. رومی
  2. »دیوان شمس
  3. »رباعیات
  4. »رباعی شمارهٔ 179

رباعی شمارهٔ 179

شاعر: رومی

وزن: مفعول مفاعیل مفاعیل فعل (وزن رباعی)

قافیہ: رقاینست

صنف: رباعی

صداکار: بهناز شکوهی
Toggle stanza 1
11
ای بنده بدان که خواجهٔ شرق اینست
از ابر گهربار ازل برق اینست
22
تو هرچه بگویی از قیاسی گویی
او قصه ز دیده می‌کند فرق اینست
◆

اگلی / پچھلی نظم

پچھلی نظم

ای آنکه درینجهان چو تو پاکی نیست

زیبا و لطیف و چست و چالاکی نیست

رومی»دیوان شمس»رباعیات»رباعی شمارهٔ 178

اگلی نظم

ای بی‌خبر از مغز شده غره بپوست

هشدار که در میان جان داری دوست

رومی»دیوان شمس»رباعیات»رباعی شمارهٔ 180

◆

آڈیو

صداکار منتخب کریں

0:000:00
◆

ماخذ

فارسی متن کا ماخذ: گنجور

آڈیو کا ماخذ: گنجور

0:000:00