صفحۂ اولشعرازمرہ جاتلغاتمزید مطالعہہمارے بارے میںرابطہ
زندہ رود
زندہ رود

زندہ رود: فارسی شاعری کا ایک جاوداں دریا

زندہ رود فارسی شاعری کو اردو اور انگریزی تراجم، آڈیو اور ویڈیو کے ساتھ ایک پرسکون اور مستقل مطالعہ گاہ میں پیش کرنے کی کوشش ہے۔

مزید جانیں ←
YouTubeFacebookInstagramTikTok

مرکزی راستے

صفحۂ اولشعراتلاشہمارے بارے میںرابطہ

مزید مطالعہ

اوزاناصنافصداکارانمترجمینزندہ رود اور گنجور

لغات

لغاتزندہ رود فارسی لغتزندہ رود عربی لغت

ہر ماہ نئی نظمیں · جاری منصوبہ

© 2026 زندہ رود

  1. رومی
  2. »دیوان شمس
  3. »غزلیات
  4. »غزل شمارهٔ 1591

غزل شمارهٔ 1591

شاعر: رومی

وزن: فاعلاتن فاعلاتن فاعلاتن فاعلن (رمل مثمن محذوف)

قافیہ: ندهارابشکنم

صنف: غزل

صداکاران: فاطمه زندی، محسن لیله‌کوهی
Toggle stanza 1
11
وقت آن آمد که من سوگندها را بشکنم
بندها را بردرانم پندها را بشکنم
22
چرخ بدپیوند را من برگشایم بند بند
همچو شمشیر اجل پیوندها را بشکنم
33
پنبه‌ای از لاابالی در دو گوش دل نهم
پند نپذیرم ز صبر و بندها را بشکنم
44
مهر برگیرم ز قفل و در شکرخانه روم
تا ز شاخی زان شکر این قندها را بشکنم
55
تا به کی از چند و چون آخر ز عشقم شرم باد
کی ز چونی برتر آیم چندها را بشکنم
◆

اگلی / پچھلی نظم

پچھلی نظم

چون ز صورت برتر آمد آفتاب و اخترم

از معانی در معانی تا روم من خوشترم

رومی»دیوان شمس»غزلیات»غزل شمارهٔ 1590

اگلی نظم

نی تو گفتی از جفای آن جفاگر نشکنم

نی تو گفتی عالمی در عشق او برهم زنم

رومی»دیوان شمس»غزلیات»غزل شمارهٔ 1592

◆

آڈیو

صداکار منتخب کریں

0:000:00
◆

ماخذ

فارسی متن کا ماخذ: گنجور

آڈیو کا ماخذ: گنجور

0:000:00