صفحۂ اولشعرازمرہ جاتلغاتمزید مطالعہہمارے بارے میںرابطہ
زندہ رود
زندہ رود

زندہ رود: فارسی شاعری کا ایک جاوداں دریا

زندہ رود فارسی شاعری کو اردو اور انگریزی تراجم، آڈیو اور ویڈیو کے ساتھ ایک پرسکون اور مستقل مطالعہ گاہ میں پیش کرنے کی کوشش ہے۔

مزید جانیں ←
YouTubeFacebookInstagramTikTok

مرکزی راستے

صفحۂ اولشعراتلاشہمارے بارے میںرابطہ

مزید مطالعہ

اوزاناصنافصداکارانمترجمینزندہ رود اور گنجور

لغات

لغاتزندہ رود فارسی لغتزندہ رود عربی لغت

ہر ماہ نئی نظمیں · جاری منصوبہ

© 2026 زندہ رود

  1. رومی
  2. »دیوان شمس
  3. »رباعیات
  4. »رباعی شمارهٔ 289

رباعی شمارهٔ 289

شاعر: رومی

وزن: مفعول مفاعیل مفاعیل فعل (وزن رباعی)

قافیہ: ارتنیست

صنف: رباعی

صداکار: بهناز شکوهی
Toggle stanza 1
11
ترشی تو چرا مگر شکربارت نیست
یا هست شکر ولی خریدارت نیست
22
یا کار نمیدانی و سرگشته شدی
یا میدانی ز کاسدی کارت نیست
◆

اگلی / پچھلی نظم

پچھلی نظم

چون دید مرا مست بهم برزد دست

گفتا که شکست توبه بازآمد مست

رومی»دیوان شمس»رباعیات»رباعی شمارهٔ 288

اگلی نظم

چیزیست که در تو بی تو جویان ویست

در خاک تو دریست که از کان ویست

رومی»دیوان شمس»رباعیات»رباعی شمارهٔ 290

◆

آڈیو

صداکار منتخب کریں

0:000:00
◆

ماخذ

فارسی متن کا ماخذ: گنجور

آڈیو کا ماخذ: گنجور

0:000:00