صفحۂ اولشعراءلغاتاوزاناصنافمترجمینصداکارہمارے بارے میںرابطہ
زندہ رود
زندہ رود

زندہ رود: فارسی شاعری کا ایک جاوداں دریا

زندہ رود فارسی شاعری کو اردو اور انگریزی تراجم، آڈیو اور ویڈیو کے ساتھ ایک پرسکون اور مستقل مطالعہ گاہ میں پیش کرنے کی کوشش ہے۔

مزید جانیں ←
YouTubeFacebookInstagramTikTok

مرکزی راستے

صفحۂ اولتلاشہمارے بارے میںرابطہ

مزید مطالعہ

شعراءاوزاناصنافصداکارانمترجمین

لغات

لغاتزندہ رود فارسی لغتزندہ رود عربی لغت

ہر ماہ نئی نظمیں · جاری منصوبہ

© 2026 زندہ رود

  1. عرفی
  2. »رباعیها
  3. »رباعی شمارهٔ 74

رباعی شمارهٔ 74

شاعر: عرفی

وزن: مفعول مفاعیل مفاعیل فعل (وزن رباعی)

قافیہ: منطلبند

صنف: رباعی

Toggle stanza 1
1

فردا که معاملان هر فن طلبند

حسن عمل از شیخ و برهمن طلبند

2

زان ها که دروده ای جوی نستانند

آن ها که نکشته ای به خرمن طلبند

◆

اگلی / پچھلی نظم

پچھلی نظم

از عشق شراب نیستی جوید روح

زین می شکند صراحی توبه نصوح

عرفی»رباعیها»رباعی شمارهٔ 73

اگلی نظم

ایوب به صبر خویشتن می نازد

یعقوب به بوی پیرهن می نازد

عرفی»رباعیها»رباعی شمارهٔ 75

ماخذ

فارسی متن کا ماخذ: گنجور