صفحۂ اولشعراءلغاتاوزاناصنافمترجمینصداکارہمارے بارے میںرابطہ
زندہ رود
زندہ رود

زندہ رود: فارسی شاعری کا ایک جاوداں دریا

زندہ رود فارسی شاعری کو اردو اور انگریزی تراجم، آڈیو اور ویڈیو کے ساتھ ایک پرسکون اور مستقل مطالعہ گاہ میں پیش کرنے کی کوشش ہے۔

مزید جانیں ←
YouTubeFacebookInstagramTikTok

مرکزی راستے

صفحۂ اولتلاشہمارے بارے میںرابطہ

مزید مطالعہ

شعراءاوزاناصنافصداکارانمترجمین

لغات

لغاتزندہ رود فارسی لغتزندہ رود عربی لغت

ہر ماہ نئی نظمیں · جاری منصوبہ

© 2026 زندہ رود

  1. عرفی
  2. »رباعیها
  3. »رباعی شمارهٔ 80

رباعی شمارهٔ 80

شاعر: عرفی

وزن: مفعول مفاعیل مفاعیل فعل (وزن رباعی)

قافیہ: انبگشایند

صنف: رباعی

Toggle stanza 1
1

عشق آمد و گوید که زبان بگشایند

وز مژدهٔ من دل جهان بگشایند

2

راحت نه عیان است، مناذی بزنند

تا روی نقاب بستگان بگشایند

◆

اگلی / پچھلی نظم

پچھلی نظم

در دیدهٔ هجر خواب پژمرده شود

دل بی لبت از شراب پژمرده شود

عرفی»رباعیها»رباعی شمارهٔ 79

اگلی نظم

شوخی که ز خنده چشمهٔ نوش شود

خورشید به سایه اش هم آغوش شود

عرفی»رباعیها»رباعی شمارهٔ 81

ماخذ

فارسی متن کا ماخذ: گنجور