صفحۂ اولشعراءلغاتاوزاناصنافمترجمینصداکارہمارے بارے میںرابطہ
زندہ رود
زندہ رود

زندہ رود: فارسی شاعری کا ایک جاوداں دریا

زندہ رود فارسی شاعری کو اردو اور انگریزی تراجم، آڈیو اور ویڈیو کے ساتھ ایک پرسکون اور مستقل مطالعہ گاہ میں پیش کرنے کی کوشش ہے۔

مزید جانیں ←
YouTubeFacebookInstagramTikTok

مرکزی راستے

صفحۂ اولتلاشہمارے بارے میںرابطہ

مزید مطالعہ

شعراءاوزاناصنافصداکارانمترجمین

لغات

لغاتزندہ رود فارسی لغتزندہ رود عربی لغت

ہر ماہ نئی نظمیں · جاری منصوبہ

© 2026 زندہ رود

  1. عرفی
  2. »رباعیها
  3. »رباعی شمارهٔ 45

رباعی شمارهٔ 45

شاعر: عرفی

وزن: مفعول مفاعیل مفاعیل فعل (وزن رباعی)

قافیہ: رمبهاست

صنف: رباعی

Toggle stanza 1
1

در دیدهٔ تو روشنی شرم به است

در سینهٔ تو جان و دل نرم به است

2

پرهیز کن از فسردگی در ره عشق

کز گریه سر خندهٔ گرم به است

◆

اگلی / پچھلی نظم

پچھلی نظم

یاران دگر انگشت نما خواهم گشت

مجموعهٔ درد بی دوا خواهم گشت

عرفی»رباعیها»رباعی شمارهٔ 44

اگلی نظم

عرفی شب عید و باده عیش افروز است

می نوش و طرب کن که همین دم روز است

عرفی»رباعیها»رباعی شمارهٔ 46

ماخذ

فارسی متن کا ماخذ: گنجور