صفحۂ اولشعراءلغاتاوزاناصنافمترجمینصداکارہمارے بارے میںرابطہ
زندہ رود
زندہ رود

زندہ رود: فارسی شاعری کا ایک جاوداں دریا

زندہ رود فارسی شاعری کو اردو اور انگریزی تراجم، آڈیو اور ویڈیو کے ساتھ ایک پرسکون اور مستقل مطالعہ گاہ میں پیش کرنے کی کوشش ہے۔

مزید جانیں ←
YouTubeFacebookInstagramTikTok

مرکزی راستے

صفحۂ اولتلاشہمارے بارے میںرابطہ

مزید مطالعہ

شعراءاوزاناصنافصداکارانمترجمین

لغات

لغاتزندہ رود فارسی لغتزندہ رود عربی لغت

ہر ماہ نئی نظمیں · جاری منصوبہ

© 2026 زندہ رود

  1. عرفی
  2. »رباعیها
  3. »رباعی شمارهٔ 18

رباعی شمارهٔ 18

شاعر: عرفی

وزن: مفعول مفاعیل مفاعیل فعل (وزن رباعی)

قافیہ: هراست

صنف: رباعی

Toggle stanza 1
1

آنم که رعیت کمینم دهر است

تریاق زمانه با خلافم زهر است

2

عالم به ممالک جلالم شهر است

دریای محیط خندق آن شهر است

◆

اگلی / پچھلی نظم

پچھلی نظم

عرفی که همیشه در سلامت رو داشت

دیدم که عجب جای از آن بد خو داشت

عرفی»رباعیها»رباعی شمارهٔ 17

اگلی نظم

از باب مغان که رسمشان جود و عطاست

جامی بدهند این نه آیین سخاست

عرفی»رباعیها»رباعی شمارهٔ 19

ماخذ

فارسی متن کا ماخذ: گنجور