صفحۂ اولشعراءلغاتاوزاناصنافمترجمینصداکارہمارے بارے میںرابطہ
زندہ رود
زندہ رود

زندہ رود: فارسی شاعری کا ایک جاوداں دریا

زندہ رود فارسی شاعری کو اردو اور انگریزی تراجم، آڈیو اور ویڈیو کے ساتھ ایک پرسکون اور مستقل مطالعہ گاہ میں پیش کرنے کی کوشش ہے۔

مزید جانیں ←
YouTubeFacebookInstagramTikTok

مرکزی راستے

صفحۂ اولتلاشہمارے بارے میںرابطہ

مزید مطالعہ

شعراءاوزاناصنافصداکارانمترجمین

لغات

لغاتزندہ رود فارسی لغتزندہ رود عربی لغت

ہر ماہ نئی نظمیں · جاری منصوبہ

© 2026 زندہ رود

  1. عرفی
  2. »قطعات
  3. »شمارهٔ 14 - مطایبه

شمارهٔ 14 - مطایبه

شاعر: عرفی

وزن: فعلاتن مفاعلن فعلن (خفیف مسدس مخبون)

قافیہ: مگردد

صنف: قطعه

Toggle stanza 1
1

ای که از تهمت مؤثر تو

عدل با علم منقسم گردد

2

بشنو این قطعه کز لطافت آن

تهمت و طعنه منهزم گردد

3

دل عرفی نگر که در شهوت

قصر تقواش منهدم گردد

4

شاهد عصمت از تنگ درعی

زان گلندام منعدم گردد

5

که گرش بر مزاری افتد راه

مرده در گور محتلم گردد!

◆

اگلی / پچھلی نظم

پچھلی نظم

بیا ای بخت سرگردان و بنشین

بزیر سایه سرو وگل و بید

عرفی»قطعات»شمارهٔ 13 - باغ وصل

اگلی نظم

عرفی نه ارث و کسب و نه زرق و نه حرص و آز

را هم بشعر خیره سرتیره چهر داد

عرفی»قطعات»شمارهٔ 15 - ذوق غزل

ماخذ

فارسی متن کا ماخذ: گنجور