صفحۂ اولشعراءلغاتاوزاناصنافمترجمینصداکارہمارے بارے میںرابطہ
زندہ رود
زندہ رود

زندہ رود: فارسی شاعری کا ایک جاوداں دریا

زندہ رود فارسی شاعری کو اردو اور انگریزی تراجم، آڈیو اور ویڈیو کے ساتھ ایک پرسکون اور مستقل مطالعہ گاہ میں پیش کرنے کی کوشش ہے۔

مزید جانیں ←
YouTubeFacebookInstagramTikTok

مرکزی راستے

صفحۂ اولتلاشہمارے بارے میںرابطہ

مزید مطالعہ

شعراءاوزاناصنافصداکارانمترجمین

لغات

لغاتزندہ رود فارسی لغتزندہ رود عربی لغت

ہر ماہ نئی نظمیں · جاری منصوبہ

© 2026 زندہ رود

  1. عرفی
  2. »غزلیات
  3. »غزل شمارهٔ 504

غزل شمارهٔ 504

شاعر: عرفی

وزن: مفتعلن مفاعلن مفتعلن مفاعلن (رجز مثمن مطوی مخبون)

قافیہ: وروم

صنف: غزل

Toggle stanza 1
1

چند چو جو خوری، در پی آبرو روم

زهر ز امتحان خورم، در پی آرزو روم

2

شوق سرِ بریده را، بر سر دار می برد

این سر و صد سر دگر، بازم و رو به رو روم

3

دست به دست می روم، همره لشکر جنون

تا به کدام دشت خون، پا نهم و فروروم

◆

اگلی / پچھلی نظم

پچھلی نظم

هر متاع فتنه کز عشق ستمگر می‌خرم

می‌دهم باز و به منت بار دیگر می‌خرم

عرفی»غزلیات»غزل شمارهٔ 503

اگلی نظم

مستیی کو که خرد را ز جنون دل شکنیم

شیشه ها بر سر مستوری عاقل شکنیم

عرفی»غزلیات»غزل شمارهٔ 505

ماخذ

فارسی متن کا ماخذ: گنجور