صفحۂ اولشعراءلغاتاوزاناصنافمترجمینصداکارہمارے بارے میںرابطہ
زندہ رود
زندہ رود

زندہ رود: فارسی شاعری کا ایک جاوداں دریا

زندہ رود فارسی شاعری کو اردو اور انگریزی تراجم، آڈیو اور ویڈیو کے ساتھ ایک پرسکون اور مستقل مطالعہ گاہ میں پیش کرنے کی کوشش ہے۔

مزید جانیں ←
YouTubeFacebookInstagramTikTok

مرکزی راستے

صفحۂ اولتلاشہمارے بارے میںرابطہ

مزید مطالعہ

شعراءاوزاناصنافصداکارانمترجمین

لغات

لغاتزندہ رود فارسی لغتزندہ رود عربی لغت

ہر ماہ نئی نظمیں · جاری منصوبہ

© 2026 زندہ رود

  1. عرفی
  2. »غزلیات
  3. »غزل شمارهٔ 155

غزل شمارهٔ 155

شاعر: عرفی

وزن: مفعول مفاعیل مفاعیل فعولن (هزج مثمن اخرب مکفوف محذوف)

قافیہ: ایشافت

صنف: غزل

Toggle stanza 1
1

نازنده جهان از تو به آلایش آفت

ای آفت آسایش و آسایش آفت

2

تا دیده فلک شیوه ی آفت گری تو

یک لحظه نپایید ز فرمایش آفت

3

باید همه آفت شد اگر امت عشقی

راضی نشود عشق یه آلایش آفت

4

چندان که دلم آفت عشقت طلبد، نیست

در حوصله ی عشق تو گنجایش آفت

5

آراسته از آفت نازت دل عرفی

ای ناز دل آرای تو آرایش آفت

◆

اگلی / پچھلی نظم

پچھلی نظم

دوش دل ناگشته سیر از وصل او بیهوش گشت

لیک شادم کز فغان در محفلش خاموش گشت

عرفی»غزلیات»غزل شمارهٔ 154

اگلی نظم

گر دل عنان فرصت از آغاز می گرفت

کام ابد ز طالع ناساز می گرفت

عرفی»غزلیات»غزل شمارهٔ 156

ماخذ

فارسی متن کا ماخذ: گنجور