صفحۂ اولشعراءلغاتاوزاناصنافمترجمینصداکارہمارے بارے میںرابطہ
زندہ رود
زندہ رود

زندہ رود: فارسی شاعری کا ایک جاوداں دریا

زندہ رود فارسی شاعری کو اردو اور انگریزی تراجم، آڈیو اور ویڈیو کے ساتھ ایک پرسکون اور مستقل مطالعہ گاہ میں پیش کرنے کی کوشش ہے۔

مزید جانیں ←
YouTubeFacebookInstagramTikTok

مرکزی راستے

صفحۂ اولتلاشہمارے بارے میںرابطہ

مزید مطالعہ

شعراءاوزاناصنافصداکارانمترجمین

لغات

لغاتزندہ رود فارسی لغتزندہ رود عربی لغت

ہر ماہ نئی نظمیں · جاری منصوبہ

© 2026 زندہ رود

  1. عرفی
  2. »غزلیات
  3. »غزل شمارهٔ 63

غزل شمارهٔ 63

شاعر: عرفی

وزن: فعلاتن فعلاتن فعلاتن فعلن (رمل مثمن مخبون محذوف)

قافیہ: قاست

صنف: غزل

Toggle stanza 1
1

آتشین لالهٔ دل صد ورق است

هر ورق مائدهٔ صد طبق است

2

عشق می‌گویم و می‌گریم زار

طفل نادانم و اول سبق است

3

حرف مقصود نمی‌ریزد از او

خامهٔ طالع من تنگ شق است

4

گل غم زآتش من می‌جوشد

شیشهٔ دل ز غمش پر عرق است

5

از کتابی که منش در خواندم

لوح محفوظ نخستین ورق است

6

عرفی ار عیب تو گفتیم مرنج

هرچه در حق تو گویند حق است

◆

اگلی / پچھلی نظم

پچھلی نظم

گر نوش وفا قحط شود، نیش کفاف است

امروز که مرهم نبود ریش کفاف است

عرفی»غزلیات»غزل شمارهٔ 62

اگلی نظم

دو عالم سوختن نیرنگ عشق است

شهادت ابتدای جنگ عشق است

عرفی»غزلیات»غزل شمارهٔ 64

ماخذ

فارسی متن کا ماخذ: گنجور