صفحۂ اولشعراءلغاتاوزاناصنافمترجمینصداکارہمارے بارے میںرابطہ
زندہ رود
زندہ رود

زندہ رود: فارسی شاعری کا ایک جاوداں دریا

زندہ رود فارسی شاعری کو اردو اور انگریزی تراجم، آڈیو اور ویڈیو کے ساتھ ایک پرسکون اور مستقل مطالعہ گاہ میں پیش کرنے کی کوشش ہے۔

مزید جانیں ←
YouTubeFacebookInstagramTikTok

مرکزی راستے

صفحۂ اولتلاشہمارے بارے میںرابطہ

مزید مطالعہ

شعراءاوزاناصنافصداکارانمترجمین

لغات

لغاتزندہ رود فارسی لغتزندہ رود عربی لغت

ہر ماہ نئی نظمیں · جاری منصوبہ

© 2026 زندہ رود

  1. نظیری نیشابوری
  2. »دیوان اشعار
  3. »رباعیات
  4. »شمارهٔ 113

شمارهٔ 113

شاعر: نظیری نیشابوری

وزن: مفعول مفاعیل مفاعیل فعل (وزن رباعی)

قافیہ: انافشانم

صنف: رباعی

Toggle stanza 1
1

گه بر سر فرمان تو جان افشانم

گه بر رقمش گنج روان افشانم

2

بر سر نهم و چو بحر و کان جوش زنم

پس از ته دل گنج بر آن افشانم

◆

اگلی / پچھلی نظم

پچھلی نظم

گر از مشهد اگر ز بلخ آمده‌ایم

از غره جاهلی به سلخ آمده‌ایم

نظیری نیشابوری»دیوان اشعار»رباعیات»شمارهٔ 112

اگلی نظم

فرمان تو بشنوم به پرواز آیم

وز فخر به سر نهم سرافراز آیم

نظیری نیشابوری»دیوان اشعار»رباعیات»شمارهٔ 114

ماخذ

فارسی متن کا ماخذ: گنجور