صفحۂ اولشعراءلغاتاوزاناصنافمترجمینصداکارہمارے بارے میںرابطہ
زندہ رود
زندہ رود

زندہ رود: فارسی شاعری کا ایک جاوداں دریا

زندہ رود فارسی شاعری کو اردو اور انگریزی تراجم، آڈیو اور ویڈیو کے ساتھ ایک پرسکون اور مستقل مطالعہ گاہ میں پیش کرنے کی کوشش ہے۔

مزید جانیں ←
YouTubeFacebookInstagramTikTok

مرکزی راستے

صفحۂ اولتلاشہمارے بارے میںرابطہ

مزید مطالعہ

شعراءاوزاناصنافصداکارانمترجمین

لغات

لغاتزندہ رود فارسی لغتزندہ رود عربی لغت

ہر ماہ نئی نظمیں · جاری منصوبہ

© 2026 زندہ رود

  1. نظیری نیشابوری
  2. »دیوان اشعار
  3. »رباعیات
  4. »شمارهٔ 117

شمارهٔ 117

شاعر: نظیری نیشابوری

وزن: مفعول مفاعیل مفاعیل فعل (وزن رباعی)

قافیہ: ایهمن

صنف: رباعی

Toggle stanza 1
1

کم جو که به قیمتست سرمایه من

بنشین که بته نیفتی از پایه من

2

آهسته که راه بوالعجب باریکست

دوشی نخوری در روش سایه من

◆

اگلی / پچھلی نظم

پچھلی نظم

بر خوان صلات تا به کی لقمه خام

در جام عطات چند این آب حرام

نظیری نیشابوری»دیوان اشعار»رباعیات»شمارهٔ 116

اگلی نظم

از می لبش آتش تر آورد برون

از آب به خنده شکر آورد برون

نظیری نیشابوری»دیوان اشعار»رباعیات»شمارهٔ 118

ماخذ

فارسی متن کا ماخذ: گنجور