صفحۂ اولشعرازمرہ جاتلغاتمزید مطالعہہمارے بارے میںرابطہ
زندہ رود
زندہ رود

زندہ رود: فارسی شاعری کا ایک جاوداں دریا

زندہ رود فارسی شاعری کو اردو اور انگریزی تراجم، آڈیو اور ویڈیو کے ساتھ ایک پرسکون اور مستقل مطالعہ گاہ میں پیش کرنے کی کوشش ہے۔

مزید جانیں ←
YouTubeFacebookInstagramTikTok

مرکزی راستے

صفحۂ اولشعراتلاشہمارے بارے میںرابطہ

مزید مطالعہ

اوزاناصنافصداکارانمترجمینزندہ رود اور گنجور

لغات

لغاتزندہ رود فارسی لغتزندہ رود عربی لغت

ہر ماہ نئی نظمیں · جاری منصوبہ

© 2026 زندہ رود

  1. خیام
  2. »ترانه‌های خیام (صادق هدایت)
  3. »هیچ است [107-101]
  4. »رباعی 107

رباعی 107

شاعر: خیام

وزن: مفعول مفاعیل مفاعیل فعل (وزن رباعی)

قافیہ: ستمهیچ

صنف: رباعی

صداکاران: زهرا شیبانی، محمدرضاکاکائی
Toggle stanza 1
11
بنگر ز جهان چه طَرْف بربستم؟ هیچ!
وَز حاصلِ عمر چیست در دستم؟ هیچ‌!
22
شمعِ طَرَبم، ولی چو بنشستم، هیچ
من جامِ جَمَم، ولی چو بشکستم، هیچ!
◆

اگلی / پچھلی نظم

پچھلی نظم

چون نیست زِ هر چه هست جُز باد به دست

چون هست زِ هر چه هست نُقصان و شکست

خیام»ترانه‌های خیام (صادق هدایت)»هیچ است [107-101]»رباعی 106

◆

آڈیو

صداکار منتخب کریں

0:000:00
◆

ماخذ

فارسی متن کا ماخذ: گنجور

آڈیو کا ماخذ: گنجور

0:000:00