صفحۂ اولشعرازمرہ جاتلغاتمزید مطالعہہمارے بارے میںرابطہ
زندہ رود
زندہ رود

زندہ رود: فارسی شاعری کا ایک جاوداں دریا

زندہ رود فارسی شاعری کو اردو اور انگریزی تراجم، آڈیو اور ویڈیو کے ساتھ ایک پرسکون اور مستقل مطالعہ گاہ میں پیش کرنے کی کوشش ہے۔

مزید جانیں ←
YouTubeFacebookInstagramTikTok

مرکزی راستے

صفحۂ اولشعراتلاشہمارے بارے میںرابطہ

مزید مطالعہ

اوزاناصنافصداکارانمترجمینزندہ رود اور گنجور

لغات

لغاتزندہ رود فارسی لغتزندہ رود عربی لغت

ہر ماہ نئی نظمیں · جاری منصوبہ

© 2026 زندہ رود

  1. خیام
  2. »رباعیات
  3. »رباعی شمارهٔ 126

رباعی شمارهٔ 126

شاعر: خیام

وزن: مفعول مفاعیل مفاعیل فعل (وزن رباعی)

قافیہ: وزهشویم

صنف: رباعی

Toggle stanza 1
11
تا چند اسیر عقل هر روزه شویم
در دهر چه صد ساله چه یکروزه شویم
22
دردِه تو به کاسه می از آن پیش که ما
در کارگه کوزه‌گران کوزه شویم
◆

اگلی / پچھلی نظم

پچھلی نظم

بر مفرش خاک، خفتگان می‌بینم

در زیرِ زمین، نهفتگان می‌بینم

خیام»رباعیات»رباعی شمارهٔ 125

اگلی نظم

چون نیست مقام ما در این دهر مقیم

پس بی می و معشوق خطائیست عظیم

خیام»رباعیات»رباعی شمارهٔ 127

◆

آڈیو

صداکار منتخب کریں

0:000:00
◆

ماخذ

فارسی متن کا ماخذ: گنجور

آڈیو کا ماخذ: گنجور

0:000:00