صفحۂ اولشعرازمرہ جاتلغاتمزید مطالعہہمارے بارے میںرابطہ
زندہ رود
زندہ رود

زندہ رود: فارسی شاعری کا ایک جاوداں دریا

زندہ رود فارسی شاعری کو اردو اور انگریزی تراجم، آڈیو اور ویڈیو کے ساتھ ایک پرسکون اور مستقل مطالعہ گاہ میں پیش کرنے کی کوشش ہے۔

مزید جانیں ←
YouTubeFacebookInstagramTikTok

مرکزی راستے

صفحۂ اولشعراتلاشہمارے بارے میںرابطہ

مزید مطالعہ

اوزاناصنافصداکارانمترجمینزندہ رود اور گنجور

لغات

لغاتزندہ رود فارسی لغتزندہ رود عربی لغت

ہر ماہ نئی نظمیں · جاری منصوبہ

© 2026 زندہ رود

  1. خیام
  2. »رباعیات
  3. »رباعی شمارهٔ 4

رباعی شمارهٔ 4

شاعر: خیام

وزن: مفعول مفاعیل مفاعیل فعل (وزن رباعی)

قافیہ: ستانرا

صنف: رباعی

Toggle stanza 1
11
گر مِی نخوری طعنه مزن مستان را
بنیاد مکَن تو حیله و دستان را
22
تو غره بدان مشو که مِی می‌نخوری
صد لقمه خوری که مِی غلام است آن را
◆

اگلی / پچھلی نظم

پچھلی نظم

قرآن که مهین کلام خوانند آن را

گه‌گاه نه بر دوام خوانند آن را

خیام»رباعیات»رباعی شمارهٔ 3

اگلی نظم

هر چند که رنگ و بوی زیباست مرا

چون لاله رخ و چو سرو بالاست مرا

خیام»رباعیات»رباعی شمارهٔ 5

◆

آڈیو

صداکار منتخب کریں

0:000:00
◆

ماخذ

فارسی متن کا ماخذ: گنجور

آڈیو کا ماخذ: گنجور

0:000:00