صفحۂ اولشعرازمرہ جاتلغاتمزید مطالعہہمارے بارے میںرابطہ
زندہ رود
زندہ رود

زندہ رود: فارسی شاعری کا ایک جاوداں دریا

زندہ رود فارسی شاعری کو اردو اور انگریزی تراجم، آڈیو اور ویڈیو کے ساتھ ایک پرسکون اور مستقل مطالعہ گاہ میں پیش کرنے کی کوشش ہے۔

مزید جانیں ←
YouTubeFacebookInstagramTikTok

مرکزی راستے

صفحۂ اولشعراتلاشہمارے بارے میںرابطہ

مزید مطالعہ

اوزاناصنافصداکارانمترجمینزندہ رود اور گنجور

لغات

لغاتزندہ رود فارسی لغتزندہ رود عربی لغت

ہر ماہ نئی نظمیں · جاری منصوبہ

© 2026 زندہ رود

  1. خیام
  2. »رباعیات
  3. »رباعی شمارهٔ 81

رباعی شمارهٔ 81

شاعر: خیام

وزن: مفعول مفاعیل مفاعیل فعل (وزن رباعی)

قافیہ: ستیگذرد

ہم وزن و قافیہ نظمیں: 1

صنف: رباعی

Toggle stanza 1
11
عمرت تا کی به خودپرستی گذرد
یا در پی نیستی و هستی گذرد
22
می نوش که عمری که اجل در پی اوست
آن به که به خواب یا به مستی گذرد
◆

اگلی / پچھلی نظم

پچھلی نظم

زآن پیش که بر سرت شبیخون آرند

فرمای که تا بادهٔ گلگون آرند

خیام»رباعیات»رباعی شمارهٔ 80

اگلی نظم

کس مشکل اسرار اجل را نگشاد

کس یک قدم از دایره بیرون ننهاد

خیام»رباعیات»رباعی شمارهٔ 82

◆

زمین

ہم وزن و قافیہ نظمیں

عمرت تا کی به خود‌پرستی گذرد

یا در پیِ نیستی و هستی گذرد

خیام»ترانه‌های خیام (صادق هدایت)»دم را دریابیم [143-108]»رباعی 143

◆

آڈیو

صداکار منتخب کریں

0:000:00
◆

ماخذ

فارسی متن کا ماخذ: گنجور

آڈیو کا ماخذ: گنجور

0:000:00