صفحۂ اولشعرازمرہ جاتلغاتمزید مطالعہہمارے بارے میںرابطہ
زندہ رود
زندہ رود

زندہ رود: فارسی شاعری کا ایک جاوداں دریا

زندہ رود فارسی شاعری کو اردو اور انگریزی تراجم، آڈیو اور ویڈیو کے ساتھ ایک پرسکون اور مستقل مطالعہ گاہ میں پیش کرنے کی کوشش ہے۔

مزید جانیں ←
YouTubeFacebookInstagramTikTok

مرکزی راستے

صفحۂ اولشعراتلاشہمارے بارے میںرابطہ

مزید مطالعہ

اوزاناصنافصداکارانمترجمینزندہ رود اور گنجور

لغات

لغاتزندہ رود فارسی لغتزندہ رود عربی لغت

ہر ماہ نئی نظمیں · جاری منصوبہ

© 2026 زندہ رود

  1. خیام
  2. »رباعیات
  3. »رباعی شمارهٔ 128

رباعی شمارهٔ 128

شاعر: خیام

وزن: مفعول مفاعیل مفاعیل فعل (وزن رباعی)

قافیہ: فتمینتوانم

صنف: رباعی

Toggle stanza 1
11
خورشید به گِل نَهُفت می‌نتوانم
و اسرار زمانه گفت می‌نتوانم
22
از بحر تفکرم برآورد خرد
دُرّی که ز بیم سُفت می‌نتوانم
◆

اگلی / پچھلی نظم

پچھلی نظم

چون نیست مقام ما در این دهر مقیم

پس بی می و معشوق خطائیست عظیم

خیام»رباعیات»رباعی شمارهٔ 127

اگلی نظم

دشمن به غلط گفت که من فلسفی‌ام

ایزد داند که آنچه او گفت نی‌ام

خیام»رباعیات»رباعی شمارهٔ 129

◆

آڈیو

صداکار منتخب کریں

0:000:00
◆

ماخذ

فارسی متن کا ماخذ: گنجور

آڈیو کا ماخذ: گنجور

0:000:00