صفحۂ اولشعرازمرہ جاتلغاتمزید مطالعہہمارے بارے میںرابطہ
زندہ رود
زندہ رود

زندہ رود: فارسی شاعری کا ایک جاوداں دریا

زندہ رود فارسی شاعری کو اردو اور انگریزی تراجم، آڈیو اور ویڈیو کے ساتھ ایک پرسکون اور مستقل مطالعہ گاہ میں پیش کرنے کی کوشش ہے۔

مزید جانیں ←
YouTubeFacebookInstagramTikTok

مرکزی راستے

صفحۂ اولشعراتلاشہمارے بارے میںرابطہ

مزید مطالعہ

اوزاناصنافصداکارانمترجمینزندہ رود اور گنجور

لغات

لغاتزندہ رود فارسی لغتزندہ رود عربی لغت

ہر ماہ نئی نظمیں · جاری منصوبہ

© 2026 زندہ رود

  1. خیام
  2. »رباعیات
  3. »رباعی شمارهٔ 102

رباعی شمارهٔ 102

شاعر: خیام

وزن: مفعول مفاعیل مفاعیل فعل (وزن رباعی)

قافیہ: ودهمخور

صنف: رباعی

Toggle stanza 1
11
ای دل غم این جهان فرسوده مخور
بیهوده نه‌ای غمان بیهوده مخور
22
چون بوده گذشت و نیست نابوده پدید
خوش باش غم بوده و نابوده مخور
◆

اگلی / پچھلی نظم

پچھلی نظم

افلاک که جز غم نفزایند دگر

ننهند به جا تا نربایند دگر

خیام»رباعیات»رباعی شمارهٔ 101

اگلی نظم

ای دل همه اسباب جهان خواسته گیر

باغ طربت به سبزه آراسته گیر

خیام»رباعیات»رباعی شمارهٔ 103

◆

آڈیو

صداکار منتخب کریں

0:000:00
◆

ماخذ

فارسی متن کا ماخذ: گنجور

آڈیو کا ماخذ: گنجور

0:000:00