صفحۂ اولشعرازمرہ جاتلغاتمزید مطالعہہمارے بارے میںرابطہ
زندہ رود
زندہ رود

زندہ رود: فارسی شاعری کا ایک جاوداں دریا

زندہ رود فارسی شاعری کو اردو اور انگریزی تراجم، آڈیو اور ویڈیو کے ساتھ ایک پرسکون اور مستقل مطالعہ گاہ میں پیش کرنے کی کوشش ہے۔

مزید جانیں ←
YouTubeFacebookInstagramTikTok

مرکزی راستے

صفحۂ اولشعراتلاشہمارے بارے میںرابطہ

مزید مطالعہ

اوزاناصنافصداکارانمترجمینزندہ رود اور گنجور

لغات

لغاتزندہ رود فارسی لغتزندہ رود عربی لغت

ہر ماہ نئی نظمیں · جاری منصوبہ

© 2026 زندہ رود

  1. خیام
  2. »رباعیات
  3. »رباعی شمارهٔ 115

رباعی شمارهٔ 115

شاعر: خیام

وزن: مفعول مفاعیل مفاعیل فعل (وزن رباعی)

قافیہ: ینمیزندش

ہم وزن و قافیہ نظمیں: 1

صنف: رباعی

Toggle stanza 1
11
جامی است که عقل آفرین می‌زندش
صد بوسه ز مهر بر جبین می‌زندش
22
این کوزه‌گر دهر چنین جام لطیف
می‌سازد و باز بر زمین می‌زندش
◆

اگلی / پچھلی نظم

پچھلی نظم

مرغی دیدم نشسته بر بارهٔ طوس

در پیش نهاده کله کیکاووس

خیام»رباعیات»رباعی شمارهٔ 114

اگلی نظم

خیام اگر ز باده مستی خوش باش

با ماهرخی اگر نشستی خوش باش

خیام»رباعیات»رباعی شمارهٔ 116

◆

زمین

ہم وزن و قافیہ نظمیں

جامی‌ست که عقل آفرین می‌زندش

صد بوسه زِ مِهْر بر جَبین می‌زندش

خیام»ترانه‌های خیام (صادق هدایت)»گردش دوران [56-35]»رباعی 43

◆

آڈیو

صداکار منتخب کریں

0:000:00
◆

ماخذ

فارسی متن کا ماخذ: گنجور

آڈیو کا ماخذ: گنجور

0:000:00