صفحۂ اولشعرازمرہ جاتلغاتمزید مطالعہہمارے بارے میںرابطہ
زندہ رود
زندہ رود

زندہ رود: فارسی شاعری کا ایک جاوداں دریا

زندہ رود فارسی شاعری کو اردو اور انگریزی تراجم، آڈیو اور ویڈیو کے ساتھ ایک پرسکون اور مستقل مطالعہ گاہ میں پیش کرنے کی کوشش ہے۔

مزید جانیں ←
YouTubeFacebookInstagramTikTok

مرکزی راستے

صفحۂ اولشعراتلاشہمارے بارے میںرابطہ

مزید مطالعہ

اوزاناصنافصداکارانمترجمینزندہ رود اور گنجور

لغات

لغاتزندہ رود فارسی لغتزندہ رود عربی لغت

ہر ماہ نئی نظمیں · جاری منصوبہ

© 2026 زندہ رود

  1. خیام
  2. »رباعیات
  3. »رباعی شمارهٔ 109

رباعی شمارهٔ 109

شاعر: خیام

وزن: مفعول مفاعیل مفاعیل فعل (وزن رباعی)

قافیہ: انخور

صنف: رباعی

Toggle stanza 1
11
گر باده خوری تو با خردمندان خور
یا با صنمی لاله رخی خندان خور
22
بسیار مخور ورد مکن فاش مساز
اندک خور و گهگاه خور و پنهان خور
◆

اگلی / پچھلی نظم

پچھلی نظم

زآن می که حیات جاودانیست بخور

سرمایه لذت جوانی است بخور

خیام»رباعیات»رباعی شمارهٔ 108

اگلی نظم

وقت سحر است خیز ای طرفه پسر

پر بادهٔ لعل کن بلورین ساغر

خیام»رباعیات»رباعی شمارهٔ 110

◆

آڈیو

صداکار منتخب کریں

0:000:00
◆

ماخذ

فارسی متن کا ماخذ: گنجور

آڈیو کا ماخذ: گنجور

0:000:00