صفحۂ اولشعرازمرہ جاتلغاتمزید مطالعہہمارے بارے میںرابطہ
زندہ رود
زندہ رود

زندہ رود: فارسی شاعری کا ایک جاوداں دریا

زندہ رود فارسی شاعری کو اردو اور انگریزی تراجم، آڈیو اور ویڈیو کے ساتھ ایک پرسکون اور مستقل مطالعہ گاہ میں پیش کرنے کی کوشش ہے۔

مزید جانیں ←
YouTubeFacebookInstagramTikTok

مرکزی راستے

صفحۂ اولشعراتلاشہمارے بارے میںرابطہ

مزید مطالعہ

اوزاناصنافصداکارانمترجمینزندہ رود اور گنجور

لغات

لغاتزندہ رود فارسی لغتزندہ رود عربی لغت

ہر ماہ نئی نظمیں · جاری منصوبہ

© 2026 زندہ رود

  1. خیام
  2. »رباعیات
  3. »رباعی شمارهٔ 116

رباعی شمارهٔ 116

شاعر: خیام

وزن: مفعول مفاعیل مفاعیل فعل (وزن رباعی)

قافیہ: ستیخوشباش

ہم وزن و قافیہ نظمیں: 1

صنف: رباعی

Toggle stanza 1
11
خیام اگر ز باده مستی خوش باش
با ماهرخی اگر نشستی خوش باش
22
چون عاقبت کار جهان نیستی اَست
انگار که نیستی چو هستی خوش باش
◆

اگلی / پچھلی نظم

پچھلی نظم

جامی است که عقل آفرین می‌زندش

صد بوسه ز مهر بر جبین می‌زندش

خیام»رباعیات»رباعی شمارهٔ 115

اگلی نظم

در کارگه کوزه‌گری رفتم دوش

دیدم دو هزار کوزه گویا و خموش

خیام»رباعیات»رباعی شمارهٔ 117

◆

زمین

ہم وزن و قافیہ نظمیں

خیام! اگر ز باده مستی، خوش باش

با لاله‌رخی اگر نشستی، خوش باش

خیام»ترانه‌های خیام (صادق هدایت)»دم را دریابیم [143-108]»رباعی 140

◆

آڈیو

صداکار منتخب کریں

0:000:00
◆

ماخذ

فارسی متن کا ماخذ: گنجور

آڈیو کا ماخذ: گنجور

0:000:00