صفحۂ اولشعرازمرہ جاتلغاتمزید مطالعہہمارے بارے میںرابطہ
زندہ رود
زندہ رود

زندہ رود: فارسی شاعری کا ایک جاوداں دریا

زندہ رود فارسی شاعری کو اردو اور انگریزی تراجم، آڈیو اور ویڈیو کے ساتھ ایک پرسکون اور مستقل مطالعہ گاہ میں پیش کرنے کی کوشش ہے۔

مزید جانیں ←
YouTubeFacebookInstagramTikTok

مرکزی راستے

صفحۂ اولشعراتلاشہمارے بارے میںرابطہ

مزید مطالعہ

اوزاناصنافصداکارانمترجمینزندہ رود اور گنجور

لغات

لغاتزندہ رود فارسی لغتزندہ رود عربی لغت

ہر ماہ نئی نظمیں · جاری منصوبہ

© 2026 زندہ رود

  1. خیام
  2. »رباعیات
  3. »رباعی شمارهٔ 131

رباعی شمارهٔ 131

شاعر: خیام

وزن: مفعول مفاعیل مفاعیل فعل (وزن رباعی)

قافیہ: ستینخورم

صنف: رباعی

Toggle stanza 1
11
من می نه ز بهر تنگدستی نخورم
یا از غم رسوایی و مستی نخورم
22
من می ز برای خوشدلی می‌خوردم
اکنون که تو بر دلم نشستی نخورم
◆

اگلی / پچھلی نظم

پچھلی نظم

ماییم که اصلِ شادی و کانِ غمیم

سرمایهٔ دادیم و نهادِ ستمیم

خیام»رباعیات»رباعی شمارهٔ 130

اگلی نظم

من بی می ناب زیستن نتوانم

بی باده کشید بار تن نتوانم

خیام»رباعیات»رباعی شمارهٔ 132

◆

آڈیو

صداکار منتخب کریں

0:000:00
◆

ماخذ

فارسی متن کا ماخذ: گنجور

آڈیو کا ماخذ: گنجور

0:000:00