صفحۂ اولشعرازمرہ جاتلغاتمزید مطالعہہمارے بارے میںرابطہ
زندہ رود
زندہ رود

زندہ رود: فارسی شاعری کا ایک جاوداں دریا

زندہ رود فارسی شاعری کو اردو اور انگریزی تراجم، آڈیو اور ویڈیو کے ساتھ ایک پرسکون اور مستقل مطالعہ گاہ میں پیش کرنے کی کوشش ہے۔

مزید جانیں ←
YouTubeFacebookInstagramTikTok

مرکزی راستے

صفحۂ اولشعراتلاشہمارے بارے میںرابطہ

مزید مطالعہ

اوزاناصنافصداکارانمترجمینزندہ رود اور گنجور

لغات

لغاتزندہ رود فارسی لغتزندہ رود عربی لغت

ہر ماہ نئی نظمیں · جاری منصوبہ

© 2026 زندہ رود

  1. خیام
  2. »رباعیات
  3. »رباعی شمارهٔ 164

رباعی شمارهٔ 164

شاعر: خیام

وزن: مفعول مفاعیل مفاعیل فعل (وزن رباعی)

قافیہ: اشی

صنف: رباعی

Toggle stanza 1
11
بر سنگ زدم دوش سبوی کاشی
سرمست بدم که کردم این عیاشی
22
با من به زبان حال می‌گفت سبو
من چون تو بدم تو نیز چون من باشی
◆

اگلی / پچھلی نظم

پچھلی نظم

ای کاش که جای آرمیدن بودی

یا این ره دور را رسیدن بودی

خیام»رباعیات»رباعی شمارهٔ 163

اگلی نظم

بر شاخ امید اگر بری یافتمی

هم رشته خویش را سری یافتمی

خیام»رباعیات»رباعی شمارهٔ 165

◆

آڈیو

صداکار منتخب کریں

0:000:00
◆

ماخذ

فارسی متن کا ماخذ: گنجور

آڈیو کا ماخذ: گنجور

0:000:00