صفحۂ اولشعراءلغاتاوزاناصنافمترجمینصداکارہمارے بارے میںرابطہ
زندہ رود
زندہ رود

زندہ رود: فارسی شاعری کا ایک جاوداں دریا

زندہ رود فارسی شاعری کو اردو اور انگریزی تراجم، آڈیو اور ویڈیو کے ساتھ ایک پرسکون اور مستقل مطالعہ گاہ میں پیش کرنے کی کوشش ہے۔

مزید جانیں ←
YouTubeFacebookInstagramTikTok

مرکزی راستے

صفحۂ اولتلاشہمارے بارے میںرابطہ

مزید مطالعہ

شعراءاوزاناصنافصداکارانمترجمین

لغات

لغاتزندہ رود فارسی لغتزندہ رود عربی لغت

ہر ماہ نئی نظمیں · جاری منصوبہ

© 2026 زندہ رود

  1. جامی
  2. »دیوان اشعار
  3. »فاتحة الشباب
  4. »رباعیات
  5. »شمارهٔ 44

شمارهٔ 44

شاعر: جامی

وزن: مفعول مفاعیل مفاعیل فعل (وزن رباعی)

قافیہ: ربایدخورد

صنف: رباعی

Toggle stanza 1
1

عاشق چو شوی تیغ به سر باید خورد

زهری که رسد همچو شکر باید خورد

2

هر چند تو را بر جگر آبی نبود

دریا دریا خون جگر باید خورد

◆

اگلی / پچھلی نظم

پچھلی نظم

با طبل اجل کوس نمی دارد سود

صیت کی و کاووس نمی دارد سود

جامی»دیوان اشعار»رباعیات»شمارهٔ 43

اگلی نظم

دلخسته و سینه چاک می باید شد

وز هستی خویش پاک می باید شد

جامی»دیوان اشعار»رباعیات»شمارهٔ 45

ماخذ

فارسی متن کا ماخذ: گنجور