صفحۂ اولشعراءلغاتاوزاناصنافمترجمینصداکارہمارے بارے میںرابطہ
زندہ رود
زندہ رود

زندہ رود: فارسی شاعری کا ایک جاوداں دریا

زندہ رود فارسی شاعری کو اردو اور انگریزی تراجم، آڈیو اور ویڈیو کے ساتھ ایک پرسکون اور مستقل مطالعہ گاہ میں پیش کرنے کی کوشش ہے۔

مزید جانیں ←
YouTubeFacebookInstagramTikTok

مرکزی راستے

صفحۂ اولتلاشہمارے بارے میںرابطہ

مزید مطالعہ

شعراءاوزاناصنافصداکارانمترجمین

لغات

لغاتزندہ رود فارسی لغتزندہ رود عربی لغت

ہر ماہ نئی نظمیں · جاری منصوبہ

© 2026 زندہ رود

  1. جامی
  2. »دیوان اشعار
  3. »خاتمة الحیات
  4. »رباعیات
  5. »شمارهٔ 31

شمارهٔ 31

شاعر: جامی

وزن: مفعول مفاعیل مفاعیل فعل (وزن رباعی)

قافیہ: وافتادی

صنف: رباعی

Toggle stanza 1
1

ای اشک که امشبم به رو افتادی

در صحبت جانان نه نکو افتادی

2

من بودم و یار و خلوت اکنون شده ام

حیران که تو از کجا فرو افتادی

◆

اگلی / پچھلی نظم

پچھلی نظم

عمری گفتم غذا ز کافور کنم

تا شهوت طبع را ز خود دور کنم

جامی»دیوان اشعار»رباعیات»شمارهٔ 30

اگلی نظم

بر حرف هنر خطی ز عیب اندرکش

وز روی یقین نقاب ریب اندرکش

جامی»دیوان اشعار»رباعیات»شمارهٔ 32

ماخذ

فارسی متن کا ماخذ: گنجور