صفحۂ اولشعرازمرہ جاتلغاتمزید مطالعہہمارے بارے میںرابطہ
زندہ رود
زندہ رود

زندہ رود: فارسی شاعری کا ایک جاوداں دریا

زندہ رود فارسی شاعری کو اردو اور انگریزی تراجم، آڈیو اور ویڈیو کے ساتھ ایک پرسکون اور مستقل مطالعہ گاہ میں پیش کرنے کی کوشش ہے۔

مزید جانیں ←
YouTubeFacebookInstagramTikTok

مرکزی راستے

صفحۂ اولشعراتلاشہمارے بارے میںرابطہ

مزید مطالعہ

اوزاناصنافصداکارانمترجمینزندہ رود اور گنجور

لغات

لغاتزندہ رود فارسی لغتزندہ رود عربی لغت

ہر ماہ نئی نظمیں · جاری منصوبہ

© 2026 زندہ رود

  1. جامی
  2. »دیوان اشعار
  3. »فاتحة الشباب
  4. »رباعیات
  5. »شمارهٔ 124

شمارهٔ 124

شاعر: جامی

وزن: مفعول مفاعیل مفاعیل فعل (وزن رباعی)

قافیہ: لتباشی

صنف: رباعی

Toggle stanza 1
11

گر خاک سر کوی مذلت باشی

رسوا شده شهر و محلت باشی

22

به زانکه به زرق و خودنمایی صد سال

شایسته هفتاد و دو ملت باشی

◆

اگلی / پچھلی نظم

پچھلی نظم

ای دل تا کی فضولی و بوالعجبی

از من چه نشان عافیت می طلبی

جامی»دیوان اشعار»رباعیات»شمارهٔ 123

اگلی نظم

از پنجه پنج و ششدر شش بدرآی

وز کشمکش سپهر سرکش بدرآی

جامی»دیوان اشعار»رباعیات»شمارهٔ 125

◆

ماخذ

فارسی متن کا ماخذ: گنجور