صفحۂ اولشعرازمرہ جاتلغاتمزید مطالعہہمارے بارے میںرابطہ
زندہ رود
زندہ رود

زندہ رود: فارسی شاعری کا ایک جاوداں دریا

زندہ رود فارسی شاعری کو اردو اور انگریزی تراجم، آڈیو اور ویڈیو کے ساتھ ایک پرسکون اور مستقل مطالعہ گاہ میں پیش کرنے کی کوشش ہے۔

مزید جانیں ←
YouTubeFacebookInstagramTikTok

مرکزی راستے

صفحۂ اولشعراتلاشہمارے بارے میںرابطہ

مزید مطالعہ

اوزاناصنافصداکارانمترجمینزندہ رود اور گنجور

لغات

لغاتزندہ رود فارسی لغتزندہ رود عربی لغت

ہر ماہ نئی نظمیں · جاری منصوبہ

© 2026 زندہ رود

  1. حافظ
  2. »رباعیات
  3. »رباعی شمارهٔ 7

رباعی شمارهٔ 7

شاعر: حافظ

وزن: مفعول مفاعیل مفاعیل فعل (وزن رباعی)

قافیہ: اریدگراست

ہم وزن و قافیہ نظمیں: 3

صنف: رباعی

Toggle stanza 1
11
هر روز دلم به زیر باری دگر است
در دیدهٔ من ز هجر خاری دگر است
22
من جهد همی‌کنم قضا می‌گوید
بیرون ز کفایت تو کاری دگر است
◆

اگلی / پچھلی نظم

پچھلی نظم

تو بدری و خورشید تو را بنده شده‌ست

تا بندهٔ تو شده‌ست تابنده شده‌ست

حافظ»رباعیات»رباعی شمارهٔ 6

اگلی نظم

ماهم که رخش روشنی خور بگرفت

گرد خط او چشمهٔ کوثر بگرفت

حافظ»رباعیات»رباعی شمارهٔ 8

◆

زمین

ہم وزن و قافیہ نظمیں

اندر سر ما همت کاری دگر است

معشوقهٔ خوب ما نگاری دگر است

رومی»دیوان شمس»رباعیات»رباعی شمارهٔ 173

با ما ز ازل رفته قراری دگر است

این عالم اجساد دیاری دگر است

رومی»دیوان شمس»رباعیات»رباعی شمارهٔ 234

در مجلس عشّاق قراری دگر است

وین بادهٔ عشق را خماری دگر است

رومی»دیوان شمس»رباعیات»رباعی شمارهٔ 313

◆

آڈیو

صداکار منتخب کریں

0:000:00
◆

ماخذ

فارسی متن کا ماخذ: گنجور

آڈیو کا ماخذ: گنجور

0:000:00