صفحۂ اولشعراءلغاتاوزاناصنافمترجمینصداکارہمارے بارے میںرابطہ
زندہ رود
زندہ رود

زندہ رود: فارسی شاعری کا ایک جاوداں دریا

زندہ رود فارسی شاعری کو اردو اور انگریزی تراجم، آڈیو اور ویڈیو کے ساتھ ایک پرسکون اور مستقل مطالعہ گاہ میں پیش کرنے کی کوشش ہے۔

مزید جانیں ←
YouTubeFacebookInstagramTikTok

مرکزی راستے

صفحۂ اولتلاشہمارے بارے میںرابطہ

مزید مطالعہ

شعراءاوزاناصنافصداکارانمترجمین

لغات

لغاتزندہ رود فارسی لغتزندہ رود عربی لغت

ہر ماہ نئی نظمیں · جاری منصوبہ

© 2026 زندہ رود

  1. حافظ
  2. »غزلیات
  3. »غزل شمارهٔ 442

غزل شمارهٔ 442

شاعر: حافظ

وزن: مفاعلن فعلاتن مفاعلن فعلن (مجتث مثمن مخبون محذوف)

قافیہ: انبودی

ہم وزن و قافیہ نظمیں: 2

صنف: غزل

Toggle stanza 1
1
2
3
4
5
6
7
8
◆

اگلی / پچھلی نظم

پچھلی نظم

چه بودی ار دل آن ماه مهربان بودی؟

که حال ما نه چنین بودی ار چنان بودی

حافظ»غزلیات»غزل شمارهٔ 441

اگلی نظم

چو سرو اگر بخرامی دمی به گلزاری

خورد ز غیرت روی تو هر گلی خاری

حافظ»غزلیات»غزل شمارهٔ 443

زمین

ہم وزن و قافیہ نظمیں

اگر نسیم سحرگاه مهربان بودی

ز بوی گل قفسم رشک گلستان بودی

صائب»دیوان اشعار»غزلیات»غزل شمارهٔ 6853

چه بودی ار دل آن ماه مهربان بودی؟

که حال ما نه چنین بودی ار چنان بودی

حافظ»غزلیات»غزل شمارهٔ 441

آڈیو

صداکار منتخب کریں

0:000:00

ماخذ

فارسی متن کا ماخذ: گنجور

آڈیو کا ماخذ: گنجور

0:000:00