صفحۂ اولشعراءلغاتاوزاناصنافمترجمینصداکارہمارے بارے میںرابطہ
زندہ رود
زندہ رود

زندہ رود: فارسی شاعری کا ایک جاوداں دریا

زندہ رود فارسی شاعری کو اردو اور انگریزی تراجم، آڈیو اور ویڈیو کے ساتھ ایک پرسکون اور مستقل مطالعہ گاہ میں پیش کرنے کی کوشش ہے۔

مزید جانیں ←
YouTubeFacebookInstagramTikTok

مرکزی راستے

صفحۂ اولتلاشہمارے بارے میںرابطہ

مزید مطالعہ

شعراءاوزاناصنافصداکارانمترجمین

لغات

لغاتزندہ رود فارسی لغتزندہ رود عربی لغت

ہر ماہ نئی نظمیں · جاری منصوبہ

© 2026 زندہ رود

  1. حافظ
  2. »غزلیات
  3. »غزل شمارهٔ 229

غزل شمارهٔ 229

شاعر: حافظ

وزن: مفعول فاعلات مفاعیل فاعلن (مضارع مثمن اخرب مکفوف محذوف)

قافیہ: انمنمیدهد

ہم وزن و قافیہ نظمیں: 1

صنف: غزل

Toggle stanza 1
1
2
3
4
5
6
7
◆

اگلی / پچھلی نظم

پچھلی نظم

گر من از باغِ تو یک میوه بچینم چه شود؟

پیش پایی به چراغِ تو ببینم چه شود؟

حافظ»غزلیات»غزل شمارهٔ 228

اگلی نظم

اگر به بادهٔ مُشکین دلم کشد، شاید

که بویِ خیر ز زهدِ ریا نمی‌آید

حافظ»غزلیات»غزل شمارهٔ 230

زمین

ہم وزن و قافیہ نظمیں

خالش خبر ز سر دهانم نمی‌دهد

زان راز سر به مهر نشانم نمی‌دهد

صائب»دیوان اشعار»غزلیات»غزل شمارهٔ 4311

آڈیو

صداکار منتخب کریں

0:000:00

ماخذ

فارسی متن کا ماخذ: گنجور

آڈیو کا ماخذ: گنجور

0:000:00