صفحۂ اولشعراءلغاتاوزاناصنافمترجمینصداکارہمارے بارے میںرابطہ
زندہ رود
زندہ رود

زندہ رود: فارسی شاعری کا ایک جاوداں دریا

زندہ رود فارسی شاعری کو اردو اور انگریزی تراجم، آڈیو اور ویڈیو کے ساتھ ایک پرسکون اور مستقل مطالعہ گاہ میں پیش کرنے کی کوشش ہے۔

مزید جانیں ←
YouTubeFacebookInstagramTikTok

مرکزی راستے

صفحۂ اولتلاشہمارے بارے میںرابطہ

مزید مطالعہ

شعراءاوزاناصنافصداکارانمترجمین

لغات

لغاتزندہ رود فارسی لغتزندہ رود عربی لغت

ہر ماہ نئی نظمیں · جاری منصوبہ

© 2026 زندہ رود

  1. غالب دهلوی
  2. »دیوان اشعار
  3. »رباعیات
  4. »رباعی شمارهٔ 14

رباعی شمارهٔ 14

شاعر: غالب دهلوی

وزن: مفعول مفاعیل مفاعیل فعل (وزن رباعی)

قافیہ: ختیکهمراست

صنف: رباعی

Toggle stanza 1
1

در خورد تبر بود درختی که مراست

خاییده آتش ست رختی که مراست

2

بی آن که تو بدنام شوی می کشدم

ناسازتر از خوی تو بختی که مراست

◆

اگلی / پچھلی نظم

پچھلی نظم

کس را نبود رخی بدین سان که تراست

پاکیزه تنی به خوبی جان که تراست

غالب دهلوی»دیوان اشعار»رباعیات»رباعی شمارهٔ 13

اگلی نظم

هستم ز می امید سرمست و بس است

دارم سر این کلاه در دست و بس است

غالب دهلوی»دیوان اشعار»رباعیات»رباعی شمارهٔ 15

ماخذ

فارسی متن کا ماخذ: گنجور