صفحۂ اولشعراءلغاتاوزاناصنافمترجمینصداکارہمارے بارے میںرابطہ
زندہ رود
زندہ رود

زندہ رود: فارسی شاعری کا ایک جاوداں دریا

زندہ رود فارسی شاعری کو اردو اور انگریزی تراجم، آڈیو اور ویڈیو کے ساتھ ایک پرسکون اور مستقل مطالعہ گاہ میں پیش کرنے کی کوشش ہے۔

مزید جانیں ←
YouTubeFacebookInstagramTikTok

مرکزی راستے

صفحۂ اولتلاشہمارے بارے میںرابطہ

مزید مطالعہ

شعراءاوزاناصنافصداکارانمترجمین

لغات

لغاتزندہ رود فارسی لغتزندہ رود عربی لغت

ہر ماہ نئی نظمیں · جاری منصوبہ

© 2026 زندہ رود

  1. عراقی
  2. »دیوان اشعار
  3. »رباعیات
  4. »رباعی شمارهٔ 105

رباعی شمارهٔ 105

شاعر: عراقی

وزن: مفعول مفاعیل مفاعیل فعل (وزن رباعی)

قافیہ: ابخواهیدارم

صنف: رباعی

Toggle stanza 1
1

جانا، ز دل ار کباب خواهی، دارم

وز خون جگر شراب خواهی، دارم

2

با آنکه ندارم از جهان بر جگر آب

چندان که ز دیده آب خواهی دارم

◆

اگلی / پچھلی نظم

پچھلی نظم

در سر هوس شراب و ساقی دارم

تا جام جهان نمای باقی دارم

عراقی»دیوان اشعار»رباعیات»رباعی شمارهٔ 104

اگلی نظم

اندر غم تو نگار، همچون نارم

می‌سوزم و می‌سازم و دم برنارم

عراقی»دیوان اشعار»رباعیات»رباعی شمارهٔ 106

ماخذ

فارسی متن کا ماخذ: گنجور