صفحۂ اولشعراءلغاتاوزاناصنافمترجمینصداکارہمارے بارے میںرابطہ
زندہ رود
زندہ رود

زندہ رود: فارسی شاعری کا ایک جاوداں دریا

زندہ رود فارسی شاعری کو اردو اور انگریزی تراجم، آڈیو اور ویڈیو کے ساتھ ایک پرسکون اور مستقل مطالعہ گاہ میں پیش کرنے کی کوشش ہے۔

مزید جانیں ←
YouTubeFacebookInstagramTikTok

مرکزی راستے

صفحۂ اولتلاشہمارے بارے میںرابطہ

مزید مطالعہ

شعراءاوزاناصنافصداکارانمترجمین

لغات

لغاتزندہ رود فارسی لغتزندہ رود عربی لغت

ہر ماہ نئی نظمیں · جاری منصوبہ

© 2026 زندہ رود

  1. عراقی
  2. »دیوان اشعار
  3. »رباعیات
  4. »رباعی شمارهٔ 154

رباعی شمارهٔ 154

شاعر: عراقی

وزن: مفعول مفاعیل مفاعیل فعل (وزن رباعی)

قافیہ: شباشی

صنف: رباعی

Toggle stanza 1
1

چون خاک زمین اگر عناکش باشی

وز باد هوای دهر ناخوش باشی

2

زنهار! ز دست ناکسان آب حیات

بر لب ننهی، گرچه در آتش باشی

◆

اگلی / پچھلی نظم

پچھلی نظم

گر شهره شوی به شهر، شرالناسی

ور گوشه گرفته‌ای، تو در وسواسی

عراقی»دیوان اشعار»رباعیات»رباعی شمارهٔ 153

اگلی نظم

ای کاش! بدانمی که من کیستمی؟

تا در نظرش بهتر ازین زیستمی

عراقی»دیوان اشعار»رباعیات»رباعی شمارهٔ 155

ماخذ

فارسی متن کا ماخذ: گنجور