صفحۂ اولشعراءلغاتاوزاناصنافمترجمینصداکارہمارے بارے میںرابطہ
زندہ رود
زندہ رود

زندہ رود: فارسی شاعری کا ایک جاوداں دریا

زندہ رود فارسی شاعری کو اردو اور انگریزی تراجم، آڈیو اور ویڈیو کے ساتھ ایک پرسکون اور مستقل مطالعہ گاہ میں پیش کرنے کی کوشش ہے۔

مزید جانیں ←
YouTubeFacebookInstagramTikTok

مرکزی راستے

صفحۂ اولتلاشہمارے بارے میںرابطہ

مزید مطالعہ

شعراءاوزاناصنافصداکارانمترجمین

لغات

لغاتزندہ رود فارسی لغتزندہ رود عربی لغت

ہر ماہ نئی نظمیں · جاری منصوبہ

© 2026 زندہ رود

  1. عراقی
  2. »دیوان اشعار
  3. »غزلیات
  4. »غزل شمارهٔ 265

غزل شمارهٔ 265

شاعر: عراقی

وزن: مفاعیلن مفاعیلن فعولن (هزج مسدس محذوف یا وزن دوبیتی)

قافیہ: انشتوباشی

صنف: غزل

صداکار: فاطمه زندی
Toggle stanza 1
1
2
3
4
5
6
7
8
9
10
11
12
◆

اگلی / پچھلی نظم

پچھلی نظم

نگارا، وقت آن آمد که یکدم ز آن من باشی

دلم بی‌تو به جان آمد، بیا، تا جان من باشی

عراقی»دیوان اشعار»غزلیات»غزل شمارهٔ 264

اگلی نظم

چه خوش باشد! که دلدارم تو باشی

ندیم و مونس و یارم تو باشی

عراقی»دیوان اشعار»غزلیات»غزل شمارهٔ 266

آڈیو

صداکار منتخب کریں

0:000:00

ماخذ

فارسی متن کا ماخذ: گنجور

آڈیو کا ماخذ: گنجور

0:000:00