صفحۂ اولشعراءلغاتاوزاناصنافمترجمینصداکارہمارے بارے میںرابطہ
زندہ رود
زندہ رود

زندہ رود: فارسی شاعری کا ایک جاوداں دریا

زندہ رود فارسی شاعری کو اردو اور انگریزی تراجم، آڈیو اور ویڈیو کے ساتھ ایک پرسکون اور مستقل مطالعہ گاہ میں پیش کرنے کی کوشش ہے۔

مزید جانیں ←
YouTubeFacebookInstagramTikTok

مرکزی راستے

صفحۂ اولتلاشہمارے بارے میںرابطہ

مزید مطالعہ

شعراءاوزاناصنافصداکارانمترجمین

لغات

لغاتزندہ رود فارسی لغتزندہ رود عربی لغت

ہر ماہ نئی نظمیں · جاری منصوبہ

© 2026 زندہ رود

  1. عراقی
  2. »دیوان اشعار
  3. »رباعیات
  4. »رباعی شمارهٔ 84

رباعی شمارهٔ 84

شاعر: عراقی

وزن: مفعول مفاعیل مفاعیل فعل (وزن رباعی)

قافیہ: اراستهنوز

ہم وزن و قافیہ نظمیں: 1

صنف: رباعی

Toggle stanza 1
1

دل ز آرزوی تو بی‌قرار است هنوز

جان در طلبت بر سر کار است هنوز

2

دیده به جمالت ارچه روشن شد، لیک

هم بر سر آن گریهٔ زار است هنوز

◆

اگلی / پچھلی نظم

پچھلی نظم

اندر همه عمر خود شبی وقت نماز

آمد بر من خیال معشوق فراز

عراقی»دیوان اشعار»رباعیات»رباعی شمارهٔ 83

اگلی نظم

بیزار شد از من شکسته همه کس

من مانده‌ام اکنون و همان لطف تو بس

عراقی»دیوان اشعار»رباعیات»رباعی شمارهٔ 85

زمین

ہم وزن و قافیہ نظمیں

هرچند دریغ صدهزار است هنوز

زین بیش دریغ بر شمار است هنوز

عطار»مختارنامه»باب دوازدهم: در شكایت از نفس خود»شمارهٔ 6

ماخذ

فارسی متن کا ماخذ: گنجور