صفحۂ اولشعراءلغاتاوزاناصنافمترجمینصداکارہمارے بارے میںرابطہ
زندہ رود
زندہ رود

زندہ رود: فارسی شاعری کا ایک جاوداں دریا

زندہ رود فارسی شاعری کو اردو اور انگریزی تراجم، آڈیو اور ویڈیو کے ساتھ ایک پرسکون اور مستقل مطالعہ گاہ میں پیش کرنے کی کوشش ہے۔

مزید جانیں ←
YouTubeFacebookInstagramTikTok

مرکزی راستے

صفحۂ اولتلاشہمارے بارے میںرابطہ

مزید مطالعہ

شعراءاوزاناصنافصداکارانمترجمین

لغات

لغاتزندہ رود فارسی لغتزندہ رود عربی لغت

ہر ماہ نئی نظمیں · جاری منصوبہ

© 2026 زندہ رود

  1. عراقی
  2. »دیوان اشعار
  3. »رباعیات
  4. »رباعی شمارهٔ 22

رباعی شمارهٔ 22

شاعر: عراقی

وزن: مفعول مفاعیل مفاعیل فعل (وزن رباعی)

قافیہ: بیشاست

صنف: رباعی

Toggle stanza 1
1

عشق تو، که سرمایهٔ این درویش است

ز اندازهٔ هر هوس‌پرستی بیش است

2

شوری است، که از ازل مرا در سر بود

کاری است، که تا ابد مرا در پیش است

◆

اگلی / پچھلی نظم

پچھلی نظم

دل رفت بر کسی که بی‌ماش خوش است

غم خوش نبود، ولیک غمهاش خوش است

عراقی»دیوان اشعار»رباعیات»رباعی شمارهٔ 21

اگلی نظم

شوقی، که چو گل دل شکفاند، عشق است

ذهنی، که رموز عشق داند، عشق است

عراقی»دیوان اشعار»رباعیات»رباعی شمارهٔ 23

ماخذ

فارسی متن کا ماخذ: گنجور