صفحۂ اولشعراءلغاتاوزاناصنافمترجمینصداکارہمارے بارے میںرابطہ
زندہ رود
زندہ رود

زندہ رود: فارسی شاعری کا ایک جاوداں دریا

زندہ رود فارسی شاعری کو اردو اور انگریزی تراجم، آڈیو اور ویڈیو کے ساتھ ایک پرسکون اور مستقل مطالعہ گاہ میں پیش کرنے کی کوشش ہے۔

مزید جانیں ←
YouTubeFacebookInstagramTikTok

مرکزی راستے

صفحۂ اولتلاشہمارے بارے میںرابطہ

مزید مطالعہ

شعراءاوزاناصنافصداکارانمترجمین

لغات

لغاتزندہ رود فارسی لغتزندہ رود عربی لغت

ہر ماہ نئی نظمیں · جاری منصوبہ

© 2026 زندہ رود

  1. عراقی
  2. »دیوان اشعار
  3. »رباعیات
  4. »رباعی شمارهٔ 159

رباعی شمارهٔ 159

شاعر: عراقی

وزن: مفعول مفاعیل مفاعیل فعل (وزن رباعی)

قافیہ: ادانی

صنف: رباعی

Toggle stanza 1
1

در عشق ببر از همه، گر بتوانی

جانا طلب کسی مکن، تا دانی

2

تا با دگرانت سر و کاری باشد

با ما سر و کارت نبود، نادانی

◆

اگلی / پچھلی نظم

پچھلی نظم

حال من خستهٔ گدا می‌دانی

وین درد دل مرا دوا می‌دانی

عراقی»دیوان اشعار»رباعیات»رباعی شمارهٔ 158

اگلی نظم

گفتم که: اگر چه آفت جان منی

جان پیش کشم تو را، که جانان منی

عراقی»دیوان اشعار»رباعیات»رباعی شمارهٔ 160

ماخذ

فارسی متن کا ماخذ: گنجور