صفحۂ اولشعراءلغاتاوزاناصنافمترجمینصداکارہمارے بارے میںرابطہ
زندہ رود
زندہ رود

زندہ رود: فارسی شاعری کا ایک جاوداں دریا

زندہ رود فارسی شاعری کو اردو اور انگریزی تراجم، آڈیو اور ویڈیو کے ساتھ ایک پرسکون اور مستقل مطالعہ گاہ میں پیش کرنے کی کوشش ہے۔

مزید جانیں ←
YouTubeFacebookInstagramTikTok

مرکزی راستے

صفحۂ اولتلاشہمارے بارے میںرابطہ

مزید مطالعہ

شعراءاوزاناصنافصداکارانمترجمین

لغات

لغاتزندہ رود فارسی لغتزندہ رود عربی لغت

ہر ماہ نئی نظمیں · جاری منصوبہ

© 2026 زندہ رود

  1. عراقی
  2. »دیوان اشعار
  3. »رباعیات
  4. »رباعی شمارهٔ 44

رباعی شمارهٔ 44

شاعر: عراقی

وزن: مفعول مفاعیل مفاعیل فعل (وزن رباعی)

قافیہ: انیبگذشت

صنف: رباعی

Toggle stanza 1
1

افسوس! که ایام جوانی بگذشت

سرمایهٔ عیش جاودانی بگذشت

2

تشنه به کنار جوی چندان خفتم

کز جوی من آب زندگانی بگذشت

◆

اگلی / پچھلی نظم

پچھلی نظم

دیشب دل من خیال تو مهمان داشت

بر خوان تکلف جگری بریان داشت

عراقی»دیوان اشعار»رباعیات»رباعی شمارهٔ 43

اگلی نظم

دردا! که دلم خبر ز دلدار نیافت

از گلبن وصل تو به جز خار نیافت

عراقی»دیوان اشعار»رباعیات»رباعی شمارهٔ 45

ماخذ

فارسی متن کا ماخذ: گنجور