صفحۂ اولشعراءلغاتاوزاناصنافمترجمینصداکارہمارے بارے میںرابطہ
زندہ رود
زندہ رود

زندہ رود: فارسی شاعری کا ایک جاوداں دریا

زندہ رود فارسی شاعری کو اردو اور انگریزی تراجم، آڈیو اور ویڈیو کے ساتھ ایک پرسکون اور مستقل مطالعہ گاہ میں پیش کرنے کی کوشش ہے۔

مزید جانیں ←
YouTubeFacebookInstagramTikTok

مرکزی راستے

صفحۂ اولتلاشہمارے بارے میںرابطہ

مزید مطالعہ

شعراءاوزاناصنافصداکارانمترجمین

لغات

لغاتزندہ رود فارسی لغتزندہ رود عربی لغت

ہر ماہ نئی نظمیں · جاری منصوبہ

© 2026 زندہ رود

  1. عراقی
  2. »دیوان اشعار
  3. »رباعیات
  4. »رباعی شمارهٔ 102

رباعی شمارهٔ 102

شاعر: عراقی

وزن: مفعول مفاعیل مفاعیل فعل (وزن رباعی)

قافیہ: باقیدارم

صنف: رباعی

Toggle stanza 1
1

امشب نظری بروی ساقی دارم

وز نوش لبش حیات باقی دارم

2

جانا، سخن وداع در باقی کن

کین باقی عمر با تو باقی دارم

◆

اگلی / پچھلی نظم

پچھلی نظم

امشب نظری به روی ساقی دارم

ای صبح، مدم، که عیش باقی دارم

عراقی»دیوان اشعار»رباعیات»رباعی شمارهٔ 101

اگلی نظم

ای دوست، بیا، که با تو باقی دارم

با هجر تو چند وثاقی دارم؟

عراقی»دیوان اشعار»رباعیات»رباعی شمارهٔ 103

ماخذ

فارسی متن کا ماخذ: گنجور