صفحۂ اولشعراءلغاتاوزاناصنافمترجمینصداکارہمارے بارے میںرابطہ
زندہ رود
زندہ رود

زندہ رود: فارسی شاعری کا ایک جاوداں دریا

زندہ رود فارسی شاعری کو اردو اور انگریزی تراجم، آڈیو اور ویڈیو کے ساتھ ایک پرسکون اور مستقل مطالعہ گاہ میں پیش کرنے کی کوشش ہے۔

مزید جانیں ←
YouTubeFacebookInstagramTikTok

مرکزی راستے

صفحۂ اولتلاشہمارے بارے میںرابطہ

مزید مطالعہ

شعراءاوزاناصنافصداکارانمترجمین

لغات

لغاتزندہ رود فارسی لغتزندہ رود عربی لغت

ہر ماہ نئی نظمیں · جاری منصوبہ

© 2026 زندہ رود

  1. عراقی
  2. »دیوان اشعار
  3. »رباعیات
  4. »رباعی شمارهٔ 157

رباعی شمارهٔ 157

شاعر: عراقی

وزن: مفعول مفاعیل مفاعیل فعل (وزن رباعی)

قافیہ: وشانبدمی

صنف: رباعی

Toggle stanza 1
1

گر من به صلاح خویش کوشان بدمی

سالار همه کبودپوشان بدمی

2

اکنون که اسیر و رند و می‌خوار شدم

ای کاش! غلام می‌فروشان بدمی

◆

اگلی / پچھلی نظم

پچھلی نظم

گر مونس و همدمی دمی یافتمی

زو چاره و مرهمی همی یافتمی

عراقی»دیوان اشعار»رباعیات»رباعی شمارهٔ 156

اگلی نظم

حال من خستهٔ گدا می‌دانی

وین درد دل مرا دوا می‌دانی

عراقی»دیوان اشعار»رباعیات»رباعی شمارهٔ 158

ماخذ

فارسی متن کا ماخذ: گنجور