صفحۂ اولشعراءلغاتاوزاناصنافمترجمینصداکارہمارے بارے میںرابطہ
زندہ رود
زندہ رود

زندہ رود: فارسی شاعری کا ایک جاوداں دریا

زندہ رود فارسی شاعری کو اردو اور انگریزی تراجم، آڈیو اور ویڈیو کے ساتھ ایک پرسکون اور مستقل مطالعہ گاہ میں پیش کرنے کی کوشش ہے۔

مزید جانیں ←
YouTubeFacebookInstagramTikTok

مرکزی راستے

صفحۂ اولتلاشہمارے بارے میںرابطہ

مزید مطالعہ

شعراءاوزاناصنافصداکارانمترجمین

لغات

لغاتزندہ رود فارسی لغتزندہ رود عربی لغت

ہر ماہ نئی نظمیں · جاری منصوبہ

© 2026 زندہ رود

  1. عطار
  2. »وصلت نامه
  3. »بخش 43 - وله ایضاً

بخش 43 - وله ایضاً

شاعر: عطار

وزن: مفعول مفاعیل مفاعیل فعل (وزن رباعی)

قافیہ: ینتوبیروناری

ہم وزن و قافیہ نظمیں: 1

صنف: رباعی

Toggle stanza 1
1

ای آنکه ز کفر دین تو بیرون آری

وز کوه و کمر نگین تو بیرون آری

2

از گل گل نازنین تو بیرون آری

وز خار تر انگبین تو بیرون آری

◆

اگلی / پچھلی نظم

پچھلی نظم

ای خلق دو کون ذکر گویندهٔ تو

وی جملهٔ کاینات پویندهٔ تو

عطار»وصلت نامه»بخش 42 - وله ایضاً

اگلی نظم

ای آنکه چنانکه مصلحت میدانی

کار که و مه به مصلحت میرانی

عطار»وصلت نامه»بخش 44 - وله ایضاً

زمین

ہم وزن و قافیہ نظمیں

ای آن که ز کفر، دین، تو بیرون آری

وز خار، ترنجبین، تو بیرون آری

عطار»مختارنامه»باب اول: در توحیدِ باری عزّ شأنه»شمارهٔ 39

ماخذ

فارسی متن کا ماخذ: گنجور