صفحۂ اولشعراءلغاتاوزاناصنافمترجمینصداکارہمارے بارے میںرابطہ
زندہ رود
زندہ رود

زندہ رود: فارسی شاعری کا ایک جاوداں دریا

زندہ رود فارسی شاعری کو اردو اور انگریزی تراجم، آڈیو اور ویڈیو کے ساتھ ایک پرسکون اور مستقل مطالعہ گاہ میں پیش کرنے کی کوشش ہے۔

مزید جانیں ←
YouTubeFacebookInstagramTikTok

مرکزی راستے

صفحۂ اولتلاشہمارے بارے میںرابطہ

مزید مطالعہ

شعراءاوزاناصنافصداکارانمترجمین

لغات

لغاتزندہ رود فارسی لغتزندہ رود عربی لغت

ہر ماہ نئی نظمیں · جاری منصوبہ

© 2026 زندہ رود

  1. عطار
  2. »وصلت نامه
  3. »بخش 45 - وله ایضاً

بخش 45 - وله ایضاً

شاعر: عطار

وزن: مفعول مفاعیل مفاعیل فعل (وزن رباعی)

قافیہ: ینمی‬دانم

صنف: رباعی

Toggle stanza 1
1

کاری که ورای کفر و دین می‌دانم

آن دوستی تست یقین می‌دانم

2

در حلق من آن سلسله کانداخته‌اند

هرگز نشود گسسته این می‌دانم

◆

اگلی / پچھلی نظم

پچھلی نظم

ای آنکه چنانکه مصلحت میدانی

کار که و مه به مصلحت میرانی

عطار»وصلت نامه»بخش 44 - وله ایضاً

اگلی نظم

از سر تو هر که با نشان خواهد بود

مشغول حضور جاودان خواهد بود

عطار»وصلت نامه»بخش 46 - وله ایضاً

ماخذ

فارسی متن کا ماخذ: گنجور