صفحۂ اولشعراءلغاتاوزاناصنافمترجمینصداکارہمارے بارے میںرابطہ
زندہ رود
زندہ رود

زندہ رود: فارسی شاعری کا ایک جاوداں دریا

زندہ رود فارسی شاعری کو اردو اور انگریزی تراجم، آڈیو اور ویڈیو کے ساتھ ایک پرسکون اور مستقل مطالعہ گاہ میں پیش کرنے کی کوشش ہے۔

مزید جانیں ←
YouTubeFacebookInstagramTikTok

مرکزی راستے

صفحۂ اولتلاشہمارے بارے میںرابطہ

مزید مطالعہ

شعراءاوزاناصنافصداکارانمترجمین

لغات

لغاتزندہ رود فارسی لغتزندہ رود عربی لغت

ہر ماہ نئی نظمیں · جاری منصوبہ

© 2026 زندہ رود

  1. عطار
  2. »مختارنامه
  3. »باب چهارم: در معانی كه تعلّق به توحید دارد
  4. »شمارهٔ 83

شمارهٔ 83

شاعر: عطار

وزن: مفعول مفاعیل مفاعیل فعل (وزن رباعی)

قافیہ: انرفت

صنف: رباعی

Toggle stanza 1
1

هر جان که ز حکم مرکز دوران رفت

مستقبل و حال و ماضیش یکسان رفت

2

ما را ازل و ابد یکیست ای درویش!

ما خود چو نیامدیم چون بتوان رفت

◆

اگلی / پچھلی نظم

پچھلی نظم

آنجا که زمین را فلکی بینی تو

بسیار زمان چو اندکی بینی تو

عطار»مختارنامه»باب چهارم: در معانی كه تعلّق به توحید دارد»شمارهٔ 82

اگلی نظم

آن سالک گرم روْ که در شیب و فراز

چون شمع فرو گداخت در سوز و گداز

عطار»مختارنامه»باب چهارم: در معانی كه تعلّق به توحید دارد»شمارهٔ 84

ماخذ

فارسی متن کا ماخذ: گنجور