صفحۂ اولشعراءلغاتاوزاناصنافمترجمینصداکارہمارے بارے میںرابطہ
زندہ رود
زندہ رود

زندہ رود: فارسی شاعری کا ایک جاوداں دریا

زندہ رود فارسی شاعری کو اردو اور انگریزی تراجم، آڈیو اور ویڈیو کے ساتھ ایک پرسکون اور مستقل مطالعہ گاہ میں پیش کرنے کی کوشش ہے۔

مزید جانیں ←
YouTubeFacebookInstagramTikTok

مرکزی راستے

صفحۂ اولتلاشہمارے بارے میںرابطہ

مزید مطالعہ

شعراءاوزاناصنافصداکارانمترجمین

لغات

لغاتزندہ رود فارسی لغتزندہ رود عربی لغت

ہر ماہ نئی نظمیں · جاری منصوبہ

© 2026 زندہ رود

  1. عطار
  2. »مختارنامه
  3. »باب هشدهم: در همّت بلند داشتن و در كار تمام بودن
  4. »شمارهٔ 34

شمارهٔ 34

شاعر: عطار

وزن: مفعول مفاعیل مفاعیل فعل (وزن رباعی)

قافیہ: دمیباشی

صنف: رباعی

Toggle stanza 1
1

کی نیک افتد تو را که بد می‌باشی؟

جان می‌دهی و خصمِ خرد می‌باشی

2

کاری‌ست دگر، تو را نخواهند گذاشت

تا بر سر روزگار خود می‌باشی

◆

اگلی / پچھلی نظم

پچھلی نظم

هرچند که دریای پرآب آمد پیش

بشتاب که کار با شتاب آمد پیش

عطار»مختارنامه»باب هشدهم: در همّت بلند داشتن و در كار تمام بودن»شمارهٔ 33

اگلی نظم

ای دوست! اگر تو دوستدار خویشی

تا کی ز هوا بر سر کار خویشی؟

عطار»مختارنامه»باب هشدهم: در همّت بلند داشتن و در كار تمام بودن»شمارهٔ 35

ماخذ

فارسی متن کا ماخذ: گنجور