صفحۂ اولشعراءلغاتاوزاناصنافمترجمینصداکارہمارے بارے میںرابطہ
زندہ رود
زندہ رود

زندہ رود: فارسی شاعری کا ایک جاوداں دریا

زندہ رود فارسی شاعری کو اردو اور انگریزی تراجم، آڈیو اور ویڈیو کے ساتھ ایک پرسکون اور مستقل مطالعہ گاہ میں پیش کرنے کی کوشش ہے۔

مزید جانیں ←
YouTubeFacebookInstagramTikTok

مرکزی راستے

صفحۂ اولتلاشہمارے بارے میںرابطہ

مزید مطالعہ

شعراءاوزاناصنافصداکارانمترجمین

لغات

لغاتزندہ رود فارسی لغتزندہ رود عربی لغت

ہر ماہ نئی نظمیں · جاری منصوبہ

© 2026 زندہ رود

  1. عطار
  2. »مختارنامه
  3. »باب سی‏ام: در فراغت نمودن از معشوق
  4. »شمارهٔ 5

شمارهٔ 5

شاعر: عطار

وزن: مفعول مفاعیل مفاعیل فعل (وزن رباعی)

قافیہ: رمیایم

صنف: رباعی

Toggle stanza 1
1

گفتم: چه کنم ز پای در میآیم

زان پیش که هر روز به سر میآیم

2

گفتا: چه کنی خاکِ درِ من باشی

تا هر روزی بر تو به در میآیم

◆

اگلی / پچھلی نظم

پچھلی نظم

گفتم:‌به غمم قیام کی بود ترا

گفتا: غم من تمام کی بود ترا

عطار»مختارنامه»باب سی‏ام: در فراغت نمودن از معشوق»شمارهٔ 4

اگلی نظم

گفتم: دل و جان در سر کارت کردم

هر چیز که داشتم نثارت کردم

عطار»مختارنامه»باب سی‏ام: در فراغت نمودن از معشوق»شمارهٔ 6

ماخذ

فارسی متن کا ماخذ: گنجور