صفحۂ اولشعراءلغاتاوزاناصنافمترجمینصداکارہمارے بارے میںرابطہ
زندہ رود
زندہ رود

زندہ رود: فارسی شاعری کا ایک جاوداں دریا

زندہ رود فارسی شاعری کو اردو اور انگریزی تراجم، آڈیو اور ویڈیو کے ساتھ ایک پرسکون اور مستقل مطالعہ گاہ میں پیش کرنے کی کوشش ہے۔

مزید جانیں ←
YouTubeFacebookInstagramTikTok

مرکزی راستے

صفحۂ اولتلاشہمارے بارے میںرابطہ

مزید مطالعہ

شعراءاوزاناصنافصداکارانمترجمین

لغات

لغاتزندہ رود فارسی لغتزندہ رود عربی لغت

ہر ماہ نئی نظمیں · جاری منصوبہ

© 2026 زندہ رود

  1. عطار
  2. »مختارنامه
  3. »باب سی و یكم: در آنكه وصل معشوق به كس نرسد
  4. »شمارهٔ 6

شمارهٔ 6

شاعر: عطار

وزن: مفعول مفاعیل مفاعیل فعل (وزن رباعی)

قافیہ: ونمیبیند

صنف: رباعی

Toggle stanza 1
1

عقلی که کمال در جنون می‌بیند

بنیاد وجود‌، خاک و خون می‌بیند

2

چشمی که دو کون در درون می‌بیند

مشتی رگ و استخوان برون می‌بیند

◆

اگلی / پچھلی نظم

پچھلی نظم

آنها که به عشق گوی بردند همه

نقش دو جهان ز دل ستردند همه

عطار»مختارنامه»باب سی و یكم: در آنكه وصل معشوق به كس نرسد»شمارهٔ 5

اگلی نظم

دل با غمِ عشق پای ناورد آخر

چون شمع ز سوختن فرومرد آخر

عطار»مختارنامه»باب سی و یكم: در آنكه وصل معشوق به كس نرسد»شمارهٔ 7

ماخذ

فارسی متن کا ماخذ: گنجور