صفحۂ اولشعراءلغاتاوزاناصنافمترجمینصداکارہمارے بارے میںرابطہ
زندہ رود
زندہ رود

زندہ رود: فارسی شاعری کا ایک جاوداں دریا

زندہ رود فارسی شاعری کو اردو اور انگریزی تراجم، آڈیو اور ویڈیو کے ساتھ ایک پرسکون اور مستقل مطالعہ گاہ میں پیش کرنے کی کوشش ہے۔

مزید جانیں ←
YouTubeFacebookInstagramTikTok

مرکزی راستے

صفحۂ اولتلاشہمارے بارے میںرابطہ

مزید مطالعہ

شعراءاوزاناصنافصداکارانمترجمین

لغات

لغاتزندہ رود فارسی لغتزندہ رود عربی لغت

ہر ماہ نئی نظمیں · جاری منصوبہ

© 2026 زندہ رود

  1. عطار
  2. »مختارنامه
  3. »باب سی و نهم: در صفتِ میان و قدِ معشوق
  4. »شمارهٔ 11

شمارهٔ 11

شاعر: عطار

وزن: مفعول مفاعیل مفاعیل فعل (وزن رباعی)

قافیہ: انگرفت

صنف: رباعی

Toggle stanza 1
1

بی روی تو مه راهِ تماشا نگرفت

بی زلف تو شب پردهٔ سودا نگرفت

2

گر سرو همه جهان به آزادی خورد

بی قدِ تو کارِ سرو بالا نگرفت

◆

اگلی / پچھلی نظم

پچھلی نظم

وقت است که دل از دو جهان برگیریم

صد گنج ز وصل تونهان برگیریم

عطار»مختارنامه»باب سی و نهم: در صفتِ میان و قدِ معشوق»شمارهٔ 10

ماخذ

فارسی متن کا ماخذ: گنجور