صفحۂ اولشعراءلغاتاوزاناصنافمترجمینصداکارہمارے بارے میںرابطہ
زندہ رود
زندہ رود

زندہ رود: فارسی شاعری کا ایک جاوداں دریا

زندہ رود فارسی شاعری کو اردو اور انگریزی تراجم، آڈیو اور ویڈیو کے ساتھ ایک پرسکون اور مستقل مطالعہ گاہ میں پیش کرنے کی کوشش ہے۔

مزید جانیں ←
YouTubeFacebookInstagramTikTok

مرکزی راستے

صفحۂ اولتلاشہمارے بارے میںرابطہ

مزید مطالعہ

شعراءاوزاناصنافصداکارانمترجمین

لغات

لغاتزندہ رود فارسی لغتزندہ رود عربی لغت

ہر ماہ نئی نظمیں · جاری منصوبہ

© 2026 زندہ رود

  1. عطار
  2. »مختارنامه
  3. »باب بیست و پنجم: در مراثی رفتگان
  4. »شمارهٔ 17

شمارهٔ 17

شاعر: عطار

وزن: مفعول مفاعیل مفاعیل فعل (وزن رباعی)

قافیہ: هبگرفته

صنف: رباعی

Toggle stanza 1
1

ای نور رخت خاک سیه بگرفته

وز مرگ توآفتاب و مَه بگرفته

2

وین عالم چون عجوزهٔ فانی را

از آرزوی تو دردِ زَه بگرفته

◆

اگلی / پچھلی نظم

پچھلی نظم

رفتی تو و خون جگریست از تو مرا

جان بر لب و دل پر خطریست از تو مرا

عطار»مختارنامه»باب بیست و پنجم: در مراثی رفتگان»شمارهٔ 16

اگلی نظم

چون گریهٔ من ابر بهاری نبود

چون نالهٔ من ناله بزاری نبود

عطار»مختارنامه»باب بیست و پنجم: در مراثی رفتگان»شمارهٔ 18

ماخذ

فارسی متن کا ماخذ: گنجور