صفحۂ اولشعراءلغاتاوزاناصنافمترجمینصداکارہمارے بارے میںرابطہ
زندہ رود
زندہ رود

زندہ رود: فارسی شاعری کا ایک جاوداں دریا

زندہ رود فارسی شاعری کو اردو اور انگریزی تراجم، آڈیو اور ویڈیو کے ساتھ ایک پرسکون اور مستقل مطالعہ گاہ میں پیش کرنے کی کوشش ہے۔

مزید جانیں ←
YouTubeFacebookInstagramTikTok

مرکزی راستے

صفحۂ اولتلاشہمارے بارے میںرابطہ

مزید مطالعہ

شعراءاوزاناصنافصداکارانمترجمین

لغات

لغاتزندہ رود فارسی لغتزندہ رود عربی لغت

ہر ماہ نئی نظمیں · جاری منصوبہ

© 2026 زندہ رود

  1. عطار
  2. »مختارنامه
  3. »باب سی و ششم: در صفت چشم و ابروی معشوق
  4. »شمارهٔ 15

شمارهٔ 15

شاعر: عطار

وزن: مفعول مفاعیل مفاعیل فعل (وزن رباعی)

قافیہ: ینافتاد

صنف: رباعی

Toggle stanza 1
1

از زلفِ تو دل چو در عقابین افتاد

نقدش همه از نرگس تو عین افتاد

2

و آخر حجر الاسودِ خالت چو بدید

از ابرویت به قاب قوسین افتاد

◆

اگلی / پچھلی نظم

پچھلی نظم

گر عفو کنی به لطف جرمی که مراست

آسان ز سرِ وجود برخواهم خاست

عطار»مختارنامه»باب سی و ششم: در صفت چشم و ابروی معشوق»شمارهٔ 14

اگلی نظم

خطّت دام است و خالت او را دانه است

با دانهٔ تو مرغِ دلم همخانه است

عطار»مختارنامه»باب سی و ششم: در صفت چشم و ابروی معشوق»شمارهٔ 16

ماخذ

فارسی متن کا ماخذ: گنجور