صفحۂ اولشعراءلغاتاوزاناصنافمترجمینصداکارہمارے بارے میںرابطہ
زندہ رود
زندہ رود

زندہ رود: فارسی شاعری کا ایک جاوداں دریا

زندہ رود فارسی شاعری کو اردو اور انگریزی تراجم، آڈیو اور ویڈیو کے ساتھ ایک پرسکون اور مستقل مطالعہ گاہ میں پیش کرنے کی کوشش ہے۔

مزید جانیں ←
YouTubeFacebookInstagramTikTok

مرکزی راستے

صفحۂ اولتلاشہمارے بارے میںرابطہ

مزید مطالعہ

شعراءاوزاناصنافصداکارانمترجمین

لغات

لغاتزندہ رود فارسی لغتزندہ رود عربی لغت

ہر ماہ نئی نظمیں · جاری منصوبہ

© 2026 زندہ رود

  1. عطار
  2. »مختارنامه
  3. »باب سی و یكم: در آنكه وصل معشوق به كس نرسد
  4. »شمارهٔ 74

شمارهٔ 74

شاعر: عطار

وزن: مفعول مفاعیل مفاعیل فعل (وزن رباعی)

قافیہ: داییافتادمرا

صنف: رباعی

Toggle stanza 1
1

یکتا بودم دوتائی افتاد مرا

در سلطانی گدائی افتاد مرا

2

در لذت قُرب جمله من بودم و بس

چندین الم جدائی افتاد مرا

◆

اگلی / پچھلی نظم

پچھلی نظم

مینشناسد کسی زبان من و تو

بیرون ز جهان است جهان من و تو

عطار»مختارنامه»باب سی و یكم: در آنكه وصل معشوق به كس نرسد»شمارهٔ 73

اگلی نظم

چون وصل تو تخم آشنائی انداخت

هجر آمد ودام بیوفائی انداخت

عطار»مختارنامه»باب سی و یكم: در آنكه وصل معشوق به كس نرسد»شمارهٔ 75

ماخذ

فارسی متن کا ماخذ: گنجور